بنگلورو، 21؍ستمبر (ایس او نیوز) حال ہی میں میسور کے ننجن گڈھ میں ایک مندر کی انہدامی کاروائی کے بعد غیر قانونی طور پر عوامی جگہوں پر تعمیر مذہبی مقامات بالخصوص مندروں، مسجدوں اور گرجا گھروں کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے پیر کو ریاستی اسمبلی میں مذہبی عمارتوں کا تحفظ بل پیش کردیا ہے۔ اس تعلق سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد تمام اہم عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ کی صدارت میں پیر کو منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں عوامی مقامات پر موجود غیر قانونی طور پر تعمیر عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے نیا قانون مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد عوامی مقامات پر موجود غیر قانونی طور پر تعمیر مذہبی مراکز کو تحفظ فراہم کرنے نیا قانون مرتب کرنے ریاستی اسمبلی میں بل پیش کرنے اور اس بل کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ننجن گڈھ میں حال ہی میں ایک قدیم مندر کی انہدامی کاروائی کے بعد حکومت کو چاروں طرف سے ملامت کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور اس طرح کے اقدامات نہ کرنے وزیر اعلیٰ کو ہندو مہا سبھا کے عہدیداروں نے جان سے مارنے کی بھی دھمکی د ی تھی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک حکم کے مطابق عوامی مقامات اور سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنے والی عمارتوں کو جن میں مذہبی مقامات بھی شامل ہیں ہر حال میں منہدم کردینا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت مذہبی مقامات کو یا تو منہدم کیا جائے یا دوسری جگہ پر منتقل کیا جائے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے عوامی مقامات پر رکاوٹ پیدا کرنے والی کئی عمارتوں کو ڈھادیا گیا تھا، مگر اب عوام کی طرف سے سخت مخالفت کے ساتھ ساتھ کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈران کی طرف سے بھی سخت مخالفت کئے جانے کے بعد اب نیا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جس کے تحت مندر، مسجد اور گرجا گھر اگر عوامی جگہوں پر تعمیر کئے گئے ہیں تو اُن کو تحفظ فراہم کیا جائےگا۔